احمد شاہ ابدالی ایثار، بے لوثی اور قربانی کا پیکر تھا۔ وہ ایک طوفان کی طرح اٹھا، سیلِ رواں کی طرح آیا اور مرہٹہ امپائر کے خوابِ شیریں کو درہم برہم کر کے جہاں سے آیا تھا، وہیں واپس چلا گیا۔ اُس نے ہندوستان کی سرزمین پر ایک فاتح اور کشور کشا کی حیثیت سے قدم رکھا۔ بڑی بڑی طاقتیں اس کے مقابلہ میں سینہ سپر ہوئیں، لیکن بالآخر انھیں سرنگوں ہونا پڑا۔ وہ جب اس دیس میں آیا تو اُس نے سب کی تابِ مقاومت چھین لی۔ سب کو اطاعت پر مجبور کر دیا۔ دلّی کا مغلِ اعظم اس کے دامن میں پناہ لے چکا تھا۔ اودھ کا شجاع الدولہ اس کی یکتائی کا سکہ مان چکا تھا۔ فرخ آباد کے احمد خاں بنگش، بریلی کے حافظ رحمت خاں، نجیب آباد کے نجیب الدولہ کو اس پر فخر تھا کہ وہ ابدالی کے وابستگانِ دامنِ دولت میں شمار ہوتے ہیں۔ مرہٹہ حکومت دم توڑ چکی تھی۔ ہندوستان کے دوسرے ہندو راجہ دست بستہ اور مؤدب اس کے حضور میں حاضر تھے اور اصرار کررہے تھے کہ ہندوستان کی حکومت قبول فرمائیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ہندوستان کے تخت کا مالک اور وارث شاہ عالم بنگالہ کی سرزمین پر اپنی الجھنوں میں گھرا ہوا تھا۔ احمد شاہ ابدالی بڑی آسانی سے سارے ہندوستان کا فرماںروا بن سکتا تھا، لیکن اس نے یہ استدعا ٹھکرا دی۔ یہ موقع کھو دیا۔ یہ جنگ مسلمانانِ ہند کی سربلندی کے لیے وہ لڑا تھا۔ اس مقصد میں کامیاب ہونے کے بعد وہ خاموشی سے اپنے ملک واپس چلا گیا۔اس ناول میں احمد شاہ ابدالی کے بارے میں جتنے واقعات لکھے ہیں، وہ تقریباً سب کے سب صحیح اور مستند ہیں۔ احمد شاہ ابدالی کی اگر میں تاریخ لکھتا تو بھی مجھے اتنی ہی محنت کرنی پڑتی اور اتنی ہی کتابوں کا مطالعہ کرنا پڑتا جتنا اِس ناول کے سلسلہ میں کرنا پڑا۔ اس کے پڑھنے سے مسلمانوں کو معلوم ہو گاکہ وہ کیا تھے اور پڑھنے کے بعد محسوس کریں گے کہ وہ کیا ہیں؟ اگر یہ مقصد پورا ہو گیا تو میں سمجھوں گا میں نے اپنا کام کر لیا۔
یہ کتاب خطوط کے ایک سلسلے کے طور پر لکھی گئی ہے جس میں گویا مصنّف نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا اور اس کی وجہ سے مصنّف کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے ہیرو کی ذہنیت کی انتہائی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ وہ ذہنیت جو گاہے گاہے مضحکہ خیز بلکہ قابلِ رحم تک ہو جاتی ہے۔
ہوسکتا ہے آپ کو یہ بات مبالغہ لگے لیکن یہ سچ ہے ماریو پوزو کے ناول ’دی گاڈ فادر‘ کو میں نے کم از کم چھے دفعہ پڑھا ہوگا اور ہر دفعہ اپنے اندر وہی سنسنی محسوس کی جب برسوں پہلے پہلی دفعہ یہ ناول مجھے نعیم بھائی نے پڑھنے کے لیے دیا تھا۔
He has held such senior positions as the Additional Chief Secretary (Development)
Translated By Muhammad Umer Memon
A Cry for Justice Hindu Holy Book احمد شاہ ابدالی ایثار، بےEmpirical Insights from Balochistan Kaiser Bengali Pages: 168 Category: English, Political Balochistan is clichd as the largest province of Pakistan with the smallest population and with vast natural resources. This is indeed true. It is also true that with just 1. 5 million families, Balochistanat one job per familyneeds just 1. 5 million jobs. Yet the province is abjectly under developed, with virtually absent physical infrastructure and abysmally