Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
SEK300.00 SEK320.00

Pay in 4 interest-free payments of $75.00 Learn more

Bukhara - بخارا yadgar e zaman hain log بقول چکبستؔ اگر زندگی عناصر

SKU: 99196316499
4.9

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Sep 11 - Sep 16

Description

بقول چکبستؔ اگر زندگی عناصر کا ظہورِ ترتیب ہے تو ایک بڑا ناول عناصر کے ظہورِ ترتیب کی بے ترتیبی ہے۔ اُسامہ بھی جوناتھن لِونگ سٹن سِیگل (Jonathan Livingston Seagull) کی مانند پرواز کی طے شدہ حدّوں سے پار جانا چاہتا ہے۔ ناول کی جو مقیّد حدود ہیں اُن کو بھی عبور کرنا چاہتا ہے۔ اگر بڑی نثر بے یقینی کو عارضی طور پر معطّل کر دیتی ہے تو اس کی ایک منفرد مثال اُسامہ صدیق کا ناول ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ ہے۔ مستنصر حسین تارڑ اکیسویں صدی کے پہلے دو دہائے اُردو میں ناول کے دہائے سمجھے جاتے ہیں، کئی اچھے ناول اور ناول نگار سامنے آئے۔ انھیں میں ایک چونکا دینے والا نام اُسامہ صدیق کا ہے۔ اَدبی دُنیا میں ان کی آمد عبد اللہ حُسین سے وابستہ وہ روایت یاد دلا دیتی ہے کہ وہ پہلی بار ’’اُداس نسلیں‘‘ کے ساتھ متعارف ہوئے اور اَدبی اُفق پر چھا گئے۔ اُسامہ بھی ایسے ہی خوش قسمت ادیبوں میں سے ہیں۔ اُسامہ پر اس پرانی کہاوت کا اطلاق ہوتا نظر آیا کہ اس کے آنے کی خبر سُن کر سرخ قالین بچھا دیے گئے، وہ آیا اس نے دیکھا اور فتح کر لیا۔ ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ نے پہلی بار مجھے ناول کی ایک اچھی تعریف سجھائی کہ ناول خصوصی حالات و واقعات کا عمومی اور سہل اظہار ہے اور عمومی حالات و واقعات کا غیر معمولی اظہاریہ۔ یہ ناول نئے عہد کا ڈسکورس ہے۔ یہ نئی صدی کا کلامیہ ہے۔ وجود سے لاوجود کا قِصّہ ناول کی مرکزی جہت ہے۔ اُسامہ صدیق نے اس فکر کی گہرائی کو انتہائی جدید اُسلوب اور تکنیک بخشی ہے۔ مجھے کہنے دیجیے کہ اک لمبا عرصہ اس ناول پر بات چیت جاری رہے گی۔ ڈاکٹر طاہرہ اقبال ’’غروبِ شہر کا وقت‘‘ مجھے ختم کرنے میں کچھ دن تو لگ گئے مگر سہج سہج پڑھنا بہت سود مند ثابت ہوا۔ مجموعی طور پر با کمال ناول ہے۔ میرے خیال میں اس کا پلاٹ ہرگز روایتی نہیں، اس لیے ہر کوئی اس کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے نہ تحسین کر سکتا ہے۔ اس کا خلاصہ بنانے کی کوشش بھی عبث ہے۔ اُردو ناول میں اس طرح کا تجربہ اس سے پہلے کرنے کی کسی نے جراَت نہیں کی۔ ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا انگریزی میں "Snuffing Out the Moon" جیسا عمدہ ناول لکھنے کے بعد اُردو کے اس ناول میں اُسامہ کی تحریر اور جو فضا یہ قائم کرتے ہیں اور جس طرح سے انھوں نے داستانوں کے حوالے دیے ہیں اور جس طرح اپنی زندگی کے سفر کو انھوں نے لاہور سے جوڑا ہے وہ حیران کن حد تک متاثر کن ہے۔ یہ شاید اس لحاظ سے اکیلے ہیں کہ جس اعلیٰ معیار کی انگریزی فکشن انھوں نے لکھی ہے اس سے بھی بہتر معیار کی اردو فکشن لکھی ہے۔ اس ناول سے مجھے جیمز جوئیس کے مشہورِ زمانہ ناولوں "Ulysses" اور "Dubliners" کا خیال آتا ہے جو Dublin کے بارے میں ہیں۔ What Dublin was for James Joyce Lahore is for Osama Siddique۔ یہ کتاب کیا چیز ہے، اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ میں اگر اپنے گھر میں کتابوں کو ترتیب دوں تو اُسامہ کی اس کتاب کو قرۃ العین حیدر کی کتابوں کے قریب ہی رکھوں گا۔ غازی صلاح الدین اُسامہ صدیق کا اُردو نثر کا مطالعہ جدید اُردو ناول لکھنے والوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ خاص کر کلاسک اُردو داستانوں کا مطالعہ اُنھوں نے بہت کر رکھا ہے اور مسلسل کرتے ہیں۔ عالمی ادب کے ناول بھی پڑھ رکھے ہیں، لہٰذا وہ اُردو ناول کی مبادیات، تاریخ اور تہذیب و ارتقا سے مکمل واقف ہیں۔ یہ ناول سب سے ہٹ کر اپنی ایک مثال قائم کرتا ہے۔ اُسامہ اب ایسا ادیب ہے جس کو ضرور بر ضرور پڑھا جانا چاہیے۔ علی اکبر ناطق اُسامہ صدیق کا ناول لاہور کے نام ایک محبت نامہ ہے۔ اگر آپ افتاد طبع کے لحاظ سے الف لیلوی واقع ہوئے ہیں، قصہ چہار درویش، آرائش محفل اور ہزار داستان جیسی تحریریں پڑھتے ہیں، جاڑوں کی ٹھٹھرتی چاندنی میں گلیوں میں بے مقصد گھومتے ہیں، میٹھا پان کھا کے ’اے دل کسی کی یاد میں‘ گاتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں اور کسی شام ہم جیسے قصہ گووں کی محفل میں آ نکلتے ہیں تو فوری طور پہ یہ ناول حاصل کیجیے۔ یہ ناول ایک کیفیت ہے۔ ویسی ہی کیفیت جیسی نومبر کے اوائل میں علی الصباح ہار سنگھار کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کے چپ چاپ اس کی کلیوں کو کندھوں پہ، بالوں پہ، نم زمین پہ گرتے ہوئے محسوس کرنا۔ آمنہ مفتی بیسویں صدی کے ربع اوّل میں دو ناولوں پہ بہت زیادہ گفتگو ہوتی رہی اور ہو رہی ہے۔ پہلا ہے ’’غلام باغ‘‘ اور دوسرا ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس صدی کا تیسرا اہم ناول ہے جس میں ہمارے وجود کے بارے میں سوچا گیا ہے۔ اس کا ایک خاص کمال یہ ہے کہ اس میں حقیقی مقامات اور کرداروں کو fictionalize کیا گیا ہے۔ جب کوئی تخلیق کار یہ کمال کر پاتا ہے تو وہ کردار eternal ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم نے یہ جاننا ہو کہ پچھلے پچاس سالوں میں ہمارے ساتھ، ہمارے وجود کے ساتھ، ہمارے معاشرے کے ساتھ، ہماری ثقافت کے ساتھ، اور ہماری زندگی کے ساتھ کیا ہوا ہے تو اس ناول کو پڑھے بغیر ہم یہ نہیں جان سکتے۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن

غلام باری (1907ء - 1949ء)، باری علیگ کے قلمی نام سے شہرت، اُردو کےاہم ادیب اور مؤرخ، کئی زبانوں کے عالم، برطانوی ہند میں ضلع گورداس پُور کی تحصیل کلانور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم سے قبل ہی ان کا گھرانا لائل پور میں آ کر آباد ہو گیا جہاں انھوں نے کالج تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ یونیورسٹی چلے آئے اور ان کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ برطانوی سامراج کی سختیوں سے دلبرداشتہ باری علیگ نے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود سرکاری جاب کے لیے درخواست نہ دی اور چوری چھپے لاہور چلے آئے اورایک اخبار میں باری علیگ کے قلمی نام سے کام کرنا شروع کیا، تاہم حکومت مخالف مضامین کے باعث اخبار مالکان نے جلد ہی نوکری سے نکال دیا۔ شادی بھی انھیں کسی ایک جاب پر قانع نہ کرسکی اور وہ لاہور، امرتسر ، رنگون کے مختلف اخبارات کے لیے کام کرتے رہے۔ کمیونزم کو عروج ہوا تو اس طرف متوجہ ہوگئے کیونکہ کمیونزم انھیں اپنے امپیریلزم مخالف خیالات سے ہم آہنگ محسوس ہوتا تھا۔ برطانوی حکومت کے دَور میں ہندوستان کی جتنی بھی تاریخیں لکھی گئیں وہ انگریزوں کو ہند میں ترقی و خوشحالی کا علمبردار ٹھہراتی تھیں۔ باری علیگ نے اس نظریے کی مخالفت کی اورحقائق کی روشنی میں برطانوی ہند کی صحیح تاریخ لکھنے کی سعی کی۔ انھوں نے تاریخ پر 13 کتب لکھیں جن میں ’’کمپنی کی حکومت‘‘، ’’اسلامی تاریخ و تہذیب‘‘ ، ’’ تاریخ کیا ہے‘‘، ’’تاریخ کا مطالعہ‘‘، ’’انقلابِ فرانس‘‘ زیادہ مشہور ہوئیں۔ 1945ء میں ’’کمپنی کی حکومت‘‘ کا تیسرا ایڈیشن شائع ہونے لگا تو نہایت اہم ترامیم اور اضافے کیے گئے۔ یہ جدید ایڈیشن ’’بک کارنر‘‘ بہت اہتمام کے ساتھ شائع کر چکا ہے۔ باری علیگ عالمی تاریخ کے طویل مطالعہ کے بعد ’’تاریخ و تہذیب ‘‘ کے زیر عنوان ہردور کی عالمی تاریخ و تہذیب کا جامع تنقیدی جائزہ پیش کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے اور بہت سا کام مکمل کر لیا تھا، مگر 1949ء میں ان کی بے وقت موت سے نہ صرف یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، بلکہ مکمل شدہ کام کا بہت سا حصہ بھی ضائع ہو گیا۔ مسودے کا درمیانی حصہ بعنوان ’’اسلامی تاریخ و تہذیب‘‘ کسی نہ کسی طرح محفوظ رہا جو پہلی مرتبہ 1970ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس مختصر سی کتاب کے مطالعہ سے تاریخِ عالم کے حیرت انگیز اور اہم ترین باب کو زیادہ صحیح طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ باری علیگ نے اپنے دور کے کئی لکھنے والوں کی سوچ کو متاثر کیا۔ سعادت حسن منٹو، باری علیگ کو اپنا رہنما اور استاد کہتے تھے۔ باری علیگ کی کتابوںنے بعد ازاں ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 42سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پائی۔ فیصل آباد میں مدفون ہیں۔ 10دسمبر1999ء میں باری علیگ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کی 50ویں برسی کے موقع پر پاکستان پوسٹ نے ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ۔

Translated By Muhammad Umer Memon

Pages: 520

یہ کتاب احمد ندیم قاسمی کے ۹ افسانوں کا مجموعہ ہے۔

Bukhara - بخارا yadgar e zaman hain log بقول چکبستؔ اگر زندگی عناصرPages: 311 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products